27 اپریل 2015 - 18:49
صرف پاراچنار میں ہی اسلحہ کیخلاف کارروائی کیوں۔؟

پاک فوج کی جانب سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمہ کے عزم کے بعد مختلف قبائلی ایجنسیوں میں دہشتگردوں کیخلاف حوصلہ افزاء کارروائیاں جاری ہیں، تاہم پاراچنار کرم ایجنسی کے محب وطن اور امن پسند عوام کو گذشتہ چند ماہ سے اسلحہ کے نام پر بے جا نہ صرف تنگ کیا جا رہا ہے بلکہ کئی مقامات پر پاراچنار کے غیور اور باغیرت عوام کے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو بھی پامال کیا گیا.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کی جانب سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمہ کے عزم کے بعد مختلف قبائلی ایجنسیوں میں دہشتگردوں کیخلاف حوصلہ افزاء کارروائیاں جاری ہیں، تاہم پاراچنار کرم ایجنسی کے محب وطن اور امن پسند عوام کو گذشتہ چند ماہ سے اسلحہ کے نام پر بے جا نہ صرف تنگ کیا جا رہا ہے بلکہ کئی مقامات پر پاراچنار کے غیور اور باغیرت عوام کے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو بھی پامال کیا گیا، پولیٹیکل انتظامیہ اور حکومت کا کہنا ہے کہ قبائلی ایجنسیوں کو اسلحہ سے پاک کیا جا رہا ہے، تاکہ پائیدار امن قائم ہوسکے، اور اسی سلسلہ میں پاراچنار کے عوام سے بھی اسلحہ ضبط کیا جا رہا ہے، اگر حکومت کا یہ موقف تسلیم کیا جائے تو سب سے پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا دیگر 6 ایجنسیوں میں اسلحہ کیخلاف مہم شروع کی گئی ہے۔؟

پاراچنار کرم ایجنسی ملک میں موجود ساتوں قبائلی ایجنسیوں میں سب سے پرامن ترین علاقہ سمجھا جاتا ہے، اور آج تک یہاں سے حکومت، ریاست یا پاکستانی محب وطن عوام کیخلاف کوئی کارروائی ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی ایک دہشتگرد بھی منظر عام پر آسکا، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دہشتگردی کے عنوان سے جانے جاتے ہیں، اور دنیا کے مختلف ممالک سے دہشتگرد بھی ان قبائلی علاقوں میں آتے جاتے ہیں، اور کئی بیرون ممالک میں بھی ہونے والی دہشتگردی کے تانے بانے انہی قبائلی علاقوں سے ملے ہیں، جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں امریکہ کیساتھ ڈبل گیم کے تحت ان قبائلی علاقوں کو آگ و بارود کی دلدل میں دھکیلا گیا، تاہم حالیہ آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد شمالی وزیرستان میں پاک فوج دہشتگردوں کا صفایا کرنے میں مصروف عمل ہے، تاہم ان قبائلی علاقوں میں اب تک مکمل طور پر حکومتی رٹ بحال نہیں ہوسکی۔

پاک فوج کی جانب سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمہ کے عزم کے بعد مختلف قبائلی ایجنسیوں میں دہشتگردوں کیخلاف حوصلہ افزاء کارروائیاں جاری ہیں, تاہم پاراچنار کرم ایجنسی کے محب وطن اور امن پسند عوام کو گذشتہ چند ماہ سے اسلحہ کے نام پر بے جا نہ صرف تنگ کیا جا رہا ہے بلکہ کئی مقامات پر پاراچنار کے غیور اور باغیرت عوام کے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو بھی پامال کیا گیا، پولیٹیکل انتظامیہ اور حکومت کا کہنا ہے کہ قبائلی ایجنسیوں کو اسلحہ سے پاک کیا جا رہا ہے، تاکہ پائیدار امن قائم ہوسکے اور اسی سلسلہ میں پاراچنار کے عوام سے بھی اسلحہ ضبط کیا جا رہا ہے، اگر حکومت کا یہ موقف تسلیم کیا جائے تو سب سے پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا دیگر 6 ایجنسیوں میں اسلحہ کیخلاف مہم شروع کی گئی ہے۔؟

جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر نے ’’اسلام ٹائمز‘‘ کو بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں اسلحہ کی سرکاری ضبطگی دور کی بات اسلحہ کی نمائش پر بھی اب تک کوئی پابندی نہیں ہے، صرف وانا شہر میں اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہے، واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان دہشتگردوں کا ایک بہت بڑا گڑھ رہا ہے، اور امریکہ نے بھی یہاں سینکڑوں ڈرون حملے کئے ہیں، جب جنوبی وزیرستان جیسے علاقہ میں اسلحہ ضبط کرنے کیلئے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تو سب سے پرامن سمجھے جانے والی قبائلی ایجنسی کرم میں اسلحہ کیخلاف حکومتی مہم بے معنی اور بلاجواز ہے، واضح رہے کہ پاراچنار کرم ایجنسی میں قبائل کے پاس موجود اسلحہ صرف 2007ء کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں ملک دشمن طالبان کیخلاف استعمال ہوا۔

پاراچنار میں اسلحہ ضبط کرنے کیخلاف حکومتی مہم پر عوام کو شدید تحفظات ہیں، ملی تنظیموں اور اکابرین نے اس حوالے سے اپنے شدید موقف کا اظہار کیا ہے، اس حوالے سے پولیٹیکل انتظامیہ اور حکومت کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی، فقط پاراچنار کرم ایجنسی کے عوام نے ہمیشہ وطن کی خاطر قربانی دی، ملکی سرحدوں کو اپنے گھر کی سرحد سمجھا، ملک دشمن عناصر کیخلاف صف آرا ہوئے، ہزاروں جانوں کے نذرانے دیئے، ہمیشہ حکومت کے جائز مطالبات نہ صرف تسلیم کئے بلکہ ہر قسم کا تعاون کیا، ایسے میں خیبر ایجنسی، مہمند ایجنسی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، اورکزئی ایجنسی اور باجوڑ ایجنسی کو چھوڑ کر صرف پاراچنار کے پرامن عوام کو نشانہ بنانا کسی طور پر بھی درست اقدام نہیں، اور اگر حکومتی رویے میں تبدیلی نہ آئی تو عوام کا ردعمل بھی آسکتا ہے۔

رپورٹ: ایس اے زیدی

........

/169